Showing posts with label Fact. Show all posts
Showing posts with label Fact. Show all posts

Tuesday, August 23, 2016

Sex Work At US Bases امریکہ کی عیاش فوج


سجاد احمد
گذشتہ روزدنیا بھر میں اپنے اخلاق سوزاور انسانیت کو شرمسار کردینے میں بدنام زمانہ امریکی فوج کا ایک منفرد کارنامہ منظر عام پر آیا ہے۔ زمینی کارروائیوں کی ذمہ دار امریکی مسلح افواج کی اہم شاخ نےریاستہائے متحدہ امریکہ کی آزادی سے قبل 14 جون 1775 سے تادم تحریر کتنے گھروں کے چراغ گل کئے ہیں،کتنے معصوموں کے نوالے چھینے ہیں، کتنی خواتین کو بے آبرو کیا ہے،کتنی املاک پر ناجائز قبضہ کیا ہے،یہ تو طویل تحقیق طلب امر ہے جبکہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ توسیع پسندی کی ہوس میں مبتلا جب بھی بے لگام بڑی فوجوں نے کہیں قیام کیا وہاں چھاونیوں کے گرد ونواح میں خستہ حال بستیاں قائم ہوتی رہی ہیں۔بے بس جنوبی کوریا میں ان بستیوں کی دیواریں امریکی فوجی اڈوں کی دیواروں تک پھیل گئی تھیں جو رات بھر بلند آواز موسیقی کی تھرتھراہٹ اور جلتے بجھتے برقی قمقموں میں ڈوبی رہتیں اور دن گذشتہ رات کی دھمکا چوکڑی کی باقیات کو سمیٹنے میں گزر جاتا تھا۔ماضی میں ایک ایسے ہی حیاسوز امریکی فوجی اڈے کے نزدیک کام کرنے والی 120 سابق طوائفوں نے جنوبی کوریا کی حکومت کے خلاف شرمناک معاوضے کیلئے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان بیچاریوں کو اپنی عزت و آبرو کے گنوانے اور صنف نازک کے بے وقعت ہونے کا تو کیا خاک احساس ہوتا ،انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے جسم فروشی میں ان کی اعانت کی اور انھیں بڑھاپے میں غربت سے دوچار کر دیا ہے۔
سرکاری بے راہ روی:
خواتین کو ’جہادالنکاح‘کے پرپیگنڈہ سے مطعون کرنے والے حقوق انسانی کے دعویدار امریکہ کے بدولت آج یہ بستیاں ایک عجیب قانونی چارہ جوئی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ یہاں بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی 120 سے زائد غریب خواتین نہ صرف امریکی حکام بلکہ اپنی حکومت کے خلاف 10 ہزار ڈالر فی کس کے ہرجانہ کے دعوے لے کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے امریکی فوجیوں کو خوش رکھنے کی خاطر جسم فروشی میں ان کی اعانت کی تھی۔گذشتہ دنوں یہ خواتین یوجینبو شہر کے نواح میں امریکی فوجی اڈہ کے قریب واقع ایک کمیونٹی سینٹر میںنہ صرف مجتمع ہوئیںبلکہ انھوں نے لوگوں کے سامنے اپنے مقدمہ کی وضاحت بھی کی۔سابقہ طوائفوں کا مقدمہ یہ نہیں ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے انھیں جسم فروشی پر مجبور کیا تھا، اس لحاظ سے یہ کوئی جنسی غلامی کا مقدمہ نہیں ہے۔ بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے چونکہ سرکاری سطح پر ان کی جنسی صحت کے معائنہ کا باقاعدہ نظام ترتیب دیا تھا اس لئے حکومت اس جرم میں شریک تھی اور حکومت کے نظام کی وجہ سے ہی وہ آج غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئی ہیں۔
’مغربی آداب‘ کی لعنت:
 ان خواتین کا کہنا ہے کہ جنسی صحت کے معائنوں کے علاوہ حکومت انھیں محفل کے ’مغربی آداب‘ اور انگریزی زبان کی تربیت بھی دیتی رہی ہے۔ کمیونٹی سینٹر میں جمع تمام خواتین نے تسلیم کیا کہ جسم فروشی کی جانب راغب ہونے کی وجہ یہی تھی کہ وہ خود بھی غریب تھیں اور ایک انتہائی غریب ملک میں زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے نوکری کی درخواستیں دی تھیں تو ان میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ کس قسم کی ملازمت ہوگی۔چنانچہ ہوتا یہ تھا کہ ملازمت کیلئے منتخب ہونے کے بعد یہ خواتین خود کو کسی شراب خانے یا جسم فروشی کے اڈے پر پاتی تھیں، جہاں جلد ہی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہیں بار یا اڈے کے مالک سے ادھار لینا پڑ جاتا تھا، جس کے بعد وہ جسم فروشی کے نظام میں جکڑ لی جاتی تھیں۔
 ڈالروں کی ضرورت:
ایک خاتون نے عیاش فوجیوں کا بھانڈاپھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ 1972 میں جب میں ملازمت کیلئے ایک سینٹر پر پہنچی تو وہاں پر موجود افسر نے مجھے کہا کہ ذرا کرسی سے اٹھو اور پھر بیٹھ جاو۔ اس نے مجھے دیکھا اور مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ مجھے ایک ایسی ملازمت دلوائے گا جہاں رہنے کو جگہ اور کھانے کو ملے گا اور باقی سب چیزیوں کی ذمہ داری میرے باس کی ہو گی۔‘ سینٹر میں جمع خواتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جسم فروشی میں حکومت کی خاموش رضامندی شامل تھی کیونکہ اس وقت ملک کو غیر ملکی کرنسی کی بھی ضرورت تھی۔ ’ہر کوئی طوائفوں کو تو برا بھلا کہتا تھا، لیکن طوائفیں ملک میں جو ڈالر لا رہی تھیں وہ حکومت کو بہت اچھے لگتے تھے۔‘یہاں تک کہ اگر کوئی عورت کلبوں میں کام کر کے ڈالر کماتی تھی تو اسے کہا جاتا تھا کہ وہ محب وطن ہے، یعنی ایک محنتی کوریائی خاتون۔ ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ان برسوں میں بہت ڈالر کمائے تھے۔اپنی دکھ بھری داستانیں سناتے ہوئے کبھی تو غصے سے ان خواتین کی آواز بلند ہو جاتی تھی اور کبھی غم میں ڈوب جاتی تھی۔
عیش پرست فوجی:
ایک خاتون نے تو یہاں تک بتلایاہے کہ ’میں نے ایک ملازمت کی پیشکش قبول کر لی اور میں بار میں پہنچ گئی۔ لیکن میں بار میں پہنچتے ہی وہاں سے بھاگ گئی۔ آخر کار کلب کے مالک نے مجھے دوبارہ پکڑ لیا اور مجھے ایک دوسرے کلب کے مالک کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ یہاں پہنچنے کے بعد میں نے پہلی مرتبہ جسم فروشی کی۔‘ان خواتین کے دعوے اپنی جگہ، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا مقدمہ نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ عیش پرست فوجیوں کی قلعی بھی کھولتا ہے۔درحقیقت جنوبی کوریا کی حکومت نے جنسی صحت کے مراکز قائم کئے تھے، لیکن ان مراکز کی جگہ پہلے غیر سرکاری ڈاکٹر کام کر رہے تھے ان میں کچھ کی طبی تربیت درست نہیں تھی اور وہ ہر عورت کو یہ سرٹیفیکیٹ دے دیتے تھے کہ اس کی جنسی صحت بالکل ٹھیک ہے اور اس سے کسی مرد کو جنسی بیماری منتقل ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔کوریا کی حکومت ان خواتین کے مقدمے پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہے، تاہم جب مقدمہ عدالت میں پہنچے گا تو ممکن ہے حکومت یہ موقف اختیار کر لے کہ جنسی صحت کے مراکز قائم کرنے کا مقصد خواتین کی صحت کا خیال رکھنا تھا، نہ کہ جسم فروشی کی ترغیب دینا۔
’اتحادیوں میں سیکس‘:
دوسری جانب اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ 1970 کی دہائی میں جنوبی کوریا کی حکومت کو واقعی خدشہ تھا کہ امریکہ یہاں سے اپنی فوجیں واپس بلا سکتا ہے۔واشنگٹن میں برکنگز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار اور جنوبی کوریا میں جسم فروشی اور اس میں امریکی فوجیوں کے کردار پر مستند ترین کتاب ’اتحادیوں میں سیکس‘ کی مصنفہ ڈاکٹر کیتھی مون نے بھی اس مقدمے کے حوالہ سے سنسی خیز انکشاف کیا ہے کہ میرا خیال ہے جہاں جنوبی کوریا کی حکومت کا کچھ کردار نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ 1970 کی دہائی میں مرکزی حکومت کے کچھ افسران نے امریکی چھاونیوں کے قریب ان بستیوں میں جا کر جسم فروشی کرنے والی خواتین سے کہا تھا کہ وہ امریکی فوج کے افسران سے تعاون کیا کریں۔‘امریکی مظالم کی یہ داستان نئی نہیں ہے بلکہ 9/11 کو جواز بنا کر افغانستان اور عراق پر امریکہ اور اس کے حواریوں نے جنگ مسلط کی۔
’حواریوں‘اور ’اتحادیوں کے کرتوت:
 افغانستان سب سے پہلے نشانہ بنا۔ افغانستان کے خلاف اس جنگ میں تقریباً تمام مغربی ممالک امریکہ کے حواری بن کر شامل ہو گئے۔یہ وہی حواری ہیں جنھیں ’اتحادی‘بھی کہا جاتا ہے۔ ان ممالک میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، اور ناٹو تنظیم کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔ اس کاروائی میں ناٹو فوجوں نے ہوائی طاقت کا بےشمار استعمال کرتے ہوئے فرضی دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ہوئے انگنت بم افغانستان کے علاقہ پر گرائے۔ افغانستان میں امریکی اور ناٹو فوج انوکھے انداز سے جنگ لڑ رہی ہے۔ اگر امریکی فوجی فائرنگ کی زد میں آ جائیں تو فوراً بمبار لڑاکا ہوائی جہازوں کی مدد مانگ لیتے ہیں۔ لڑاکا جہاز سارے علاقے پر اندھا دھند بمباری کر کے سینکڑوں باشندوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ ویڈیو گیم کی طرح لوگوں کو فضا سے نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر بارک اوبامہ نے 2009 میں جنوبی افغانستان کے پشتونوں کے خلاف جنگ تیز کرنے کیلئے میرین برگیڈ روانہ کیاجبکہ انکل سام کی سرکردگی میںناٹو فوجوں کی طرف سے قتل و غارت کا سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔

ہر پانچویں امریکی عورت کا حشر:
کوریا کی ان بے کس خواتین کویہ کون سمجھائے کہ جن فوجیوں کے ہاتھوں وہ بے آبرو ہوئی ہیںان کی گھٹی میںجنسی زیادتی شامل ہے۔خودامریکی حکومت کی ایجنسی کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ شاہد ہے کہ حالیہ ایام میںمحض12 ماہ کے عرصہ کے دوران 10 لاکھ عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے، 60 لاکھ سے زائد مرد اور خواتین کا تعاقب کیا گیا جبکہ ایک لاکھ 20ہزار مرد و خواتین نے اپنے ہی ساتھی کی جانب سے جنسی زیادتی، جسمانی تشدد یا تعاقب کیے جانے کی شکایت کی۔امریکہ ٹیشنل سنٹر فار انجری پریوینشن اینڈ کنّرول نامی ادادرے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر لنڈا ڈیگٹس کے بقول ’جو لوگ جنسی تشدد، تعاقب یا اپنے ہی ساتھی کی جانب سے تشدد کا سامنا کرتے ہیں ان کی تمام زندگی پر اس کے اثرات رہتے ہیں۔‘جبکہ اعدادوشمار کے نتائج کے باعث تشدد کا شکار لوگوں میں تحفظ کے حوالہ سے خدشات اور ذہنی دباو میں اضافہ کا خدشہ بڑھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان میں دمہ، عدم برداشت، ذیابیطس، مسلسل سر درد، نہ ختم ہونے والی تکالیف، اور بیخوابی جیسے طبی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ 

ادھرکنواں،ادھرکھائی:
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاامریکی فوجیوں کی زیادتیوں کیخلاف ان عورتوں کو اپنے ملک کی عدالت سے انصاف مل جائے گا؟جبکہ جنوبی کوریا کی وزارت برائے افرادی قوت کا کہنا ہے کہ نوکری کی خواہش مند خواتین کو چاہ
ئے کہ وہ انٹرویو میں کہیں کہ وہ ’سیکس کے بارے میں کیے گئے مذاق‘ کا برا نہیں منائیں۔بے شرمی کی انتہا تو یہ ہے کہ مذکورہ وزارت نے یہ موقف اپنے’ رہنما اصولوں‘پیش کیا ہے۔کسی کوشک ہوتو وہ سرکاری ریکروٹمنٹ کی ویب سائٹ کا مطالعہ کرسکتا ہے۔اس ویب سائٹ پر انٹرویو کے دوران ممکنہ سوالات کے جوابات کے حوالہ سے بیہودہ رہنما اصول شائع کئے گئے تھے،یہ الگ بات ہے کہ جنوبی کوریا میں خواتین کے حقوق کیلئے کام والی تنظیموں کی جانب سے ہنگامہ ہونے پر انھیں ہٹادیا گیا۔اس ویب سائٹ پر خواتین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کہ جنسی استحصال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب کچھ اس طرح دیں کہ ’ضروری ہے کہ اس قسم کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے جواباً مذاق کر دیا جائے جبکہ ذاتی زندگی کے ضمن میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو شادی کرنے کے ارادہ کے بارے میں جھوٹ بولنا چاہئے کیونکہ ’عام طور پر خواتین شادی کرنے کے بعد نوکری چھوڑ دیتی ہیں!‘

Sex Work At US Bases
By: Sajjad Ahmed
In the 1980s, the U.S. Subic Bay Naval Base in the Philippines was the largest U.S. military base outside of the U.S. with an estimated 500 million USD generated by the brothels surrounding it. Local traffickers and brothel owners engaged in the business of buying and selling women and girls to meet the demands of the servicemen stationed there. Alma, who had dreams of becoming an accountant, was one of the women sold in the local sex industry. After three years, she was able to escape this life and subsequently co-founded Buklod ng Kababaihan, a group that helps other exploited women. Though the U.S. bases in the Philippines officially closed in the 1990s, the problem persists today as U.S. sex tourists travel there to take advantage of the commercial sex industry entrenched by the once-large U.S. military presence. Thousands of U.S. servicemen are still deployed in the Philippines where they continue to seek out local women in prostitution despite laws against it. Alma and Buklod continue to fight the exploitation of the estimated 300,000 to 400,000 women and up to 100,000 children in the Philippines commercial sex industry. Now, more than 120 former prostitutes who worked near a US military base in South Korea are going to court to seek compensation from the Korean government. They say the authorities actively facilitated their work - and that the system has left them in poverty now that they are old. For as long as armies have gathered in garrisons, ramshackle "camp-towns" have grown up around them. In South Korea, they reach right up to the walls of US bases, by night, they throb with music and neon, by day, they seem to recover from the night before. According to reports, 28 November 2014, they are now the scene of an intriguing legal dispute. More than 120 former prostitutes, who are ageing and poor, are suing not the American authorities but their own government, demanding compensation of $10,000 (£6,360) each. Their argument is that the South Korean government facilitated their work in order to keep American forces happy.
In a community centre next to the US base at Uijeongbu City in South Korea, a group of them gather to explain their case. "We worked all night long. What I want is for the Korean government to recognise that this is a system that it created... and also compensation."
Their argument is not that South Korea compelled them to work as prostitutes - this is not a case of sexual slavery, but that by instituting a system of official and compulsory check-ups on their sexual health, it was complicit, and facilitated a system which now leaves them in poverty. It also, they say, gave them English lessons and courses in "Western etiquette".
The women invariably say that they were driven to prostitution because they were poor, living in a very poor country. They applied for unspecified jobs and then found themselves in bars and brothels having to borrow from the owner, and thus became locked into the system.
"In 1972, I went to an employment placement centre and the counsellor asked me to stand up and sit down. He took a look at me and then promised me a job that would give me a place to stay and food to eat, so I would just be working and my room and board would be taken care of by my boss," says one woman.
They also argue that there was tacit approval because the country needed foreign currency. The prostitutes were reviled as people but the dollars they earned were welcomed.
"There was this talk going round about earning dollars by working in the clubs, and that that would would make you a patriot - somebody who was a hard-working Korean. We did earn a lot of dollars in the camp town," one of the women tells me.
"I accepted a job and went to an establishment. As soon as I arrived I ran away. I ended up getting caught by the club owner and my club owner sold me off to another establishment and it was there that I took my first customer," says one.
But their case is complex. It is true that the South Korean government set up clinics, but these replaced an unofficial network of doctors, some of them poorly qualified, who certified women as free of sexually transmitted diseases. The government is not commenting on the case but it might argue, when the case comes to court, that setting up clinics wasn't facilitating prostitution but trying to protect the women involved.
There were certainly fears in the 1970s that Washington would pull troops out of South Korea.
"I think where the South Korean government has some culpability is that in the 1970s some Korean officials from the central government did go to these camp-towns and try to persuade these women who were working as sex workers to co-operate with the US military command," says Dr Kathy Moon of the Brookings Institution, who wrote Sex Among Allies, the definitive study of prostitution and the US military in South Korea.
"The priority was to keep the US military command happy so they would stay in Korea because there was a threat of pull-outs of US troops."
The priority in the clinics, Moon says, was "maintaining the health and well being of the US troops not the Korean women". The staff were only interested in the women's sexual health, and did not provide treatment for other illnesses.
Moon is at pains to point out that, unlike South Korea's World War Two "comfort women" - who were forced to become sex slaves by the Japanese military - many of these women took a decision to work as prostitutes, however reluctantly. They then become trapped, however.
"Once these women were there, they couldn't get out easily. They were raped continuously, raped by the manager," she says.
"Anything the bar owner deemed necessary for a woman to attract GIs to sell sex - make-up, clothing, some decoration in their hut rooms - was rented out to the women. If the women were ill or if they needed assistance to pay for a funeral for a family member, they would borrow from the bar owner. All of these expenses became part of their debt and unless you paid off this debt you couldn't leave".
Over the years, the attitude of the US military has changed. There is now what US Forces Korea calls "zero tolerance" of servicemen using prostitutes. Military police patrol red light areas, going into bars to seek transgressors. Prostitution has also been illegal in South Korea since 2004 - though nobody doubts that it continues.
The nature of the trade has changed too. When South Korea was a poor country, South Korean women were the sellers of sex around the bases. But today, now that South Korea is an increasingly affluent society, it's largely women from Russia and the Philippines who make up the workforce.
That doesn't diminish the pain and anxiety of the elderly women who now face a comfortless old age. Jang Young-mi, in her late 60s, lives in a grim single bedroom with her three dogs. She worked in a camp-town for two decades and now has only poverty to show for it. "Maybe because I lived for so long with American soldiers, I can't fit in with Koreans," she says. "Why did my life have to turn out this way?"

Some Intresting facts about ATM


ATM के बारे में रोचक तथ्य
भारत में जन्मे थे ATM के आविष्कारक
जॉन शेफर्ड बैरन:
  1. ATM का फुल फार्म Automated tellermachine है
2. कैश निकालने वाली पहली एटीएम 27 जून 1967 में लंदन के बारक्लेज बैंक ने लगाई थी।
3. ATM मशीन कड़ी मेहनत के बाद स्कॉटलैंड केइन्वेंटर जॉन शेफर्ड बैरन ने बनाई थी।
4. खास बात यह है कि मशीन बनाने वाले जॉनशेफर्ड बैरन का जन्म 23 जून 1925 को मेघालय के शिलॉन्ग में हुआ था। उस समय उनके स्कॉटिशपिता विलफ्रिड बैरन चिटगांव पोर्ट कमिश्नर्स केचीफ इंजीनियर थे।
5. बैरन की मृत्यु वर्ष 2010 में 84 वर्ष की उम्रमें हुई।
6. खास बात यह भी है कि बैरन एटीएम का पिन 6 डिजिट का करने के पक्ष में थे, लेकिन उनकी पत्नी ने उनसे कहा कि 6 डिजिट ज्यादा है और लोग इसे याद नहीं रख पाएंगे। इस कारण बाद में उन्होंने चार डिजिट का एटीएम पिन बनाया।आज भी चार डिजिट का ही पिन चलन में है।
7. सोमालिया में देश का पहला एटीएम लगाया गया है। यह मशीन अभी सलाम सोमाली बैंकने एक महंगे होटल में लगाई गई है। अभी इस एटीएम से केवल अमेरिकी डॉलर ही निकाले जा सकेंगे। सोमालिया की अर्थव्यवस्था बहुतही खस्ताहाल है और इसकी वजह से यहां पर बैंकिंगसेक्टर अविकसित है।
8. एक मिनट की देरी होने से आया एटीएमका आइडिया :
1965 में एक दिन बैरन को पैसे की जरूरत थी,लेकिन वे बैंक एक मिनट की देरी से पहुंचे थे। बैंक बंद हो गया था और पैसे नहीं निकाल पाए थे। इसके बाद ही उन्होंने परिकल्पना की कि यदि चॉकलेट निकालने वाली मशीन की तरह पैसे निकालनेवाली मशीन भी हो, जिससे 24 घंटे कैश निकाल सकेंतो कितनी सहूलियत होगी। इसके बाद उन्होंने एटीएम मशीन का निर्माण किया।
9. 1968: कार्ड ईटिंग मशीन :बारक्लेज और अन्य बैंकों ने एक ऐसी एटीएम लगाई, जिसमें पैसा निकालने के लिए कार्ड का इस्तेमाल करना पड़ता था। यह कार्ड बैंक से पहले लेना पड़ता था। एक कार्ड एक बार मशीन में डालने पर बाहर नहीं आता था और हर बार नए कार्ड का इस्तेमाल करना पड़ता था।
10. भारत में पहली बार 1987 में एटीएमकी सुविधा शुरू हुई थी।
11. भारत में पहला एटीएम हॉन्गकॉन्ग एंड शंघाई बैंकिंग कॉर्पोरेशन (एचएसबीसी) ने मुंबई मेंलगाया था।
12. मार्केट रिसर्च फर्म एएम माइंडपॉवरसॉल्यूशन्स के मुताबिक 2015 तक देश में 2.3लाख एटीएम होंगे।
13. दो वारदातों में चोरों ने कुछ ही घंटों में 2 दर्जन से ज्यादा देशों के हजारों एटीएम से 4.5 करोड़ डॉलर यानी करीब 2.45 अरब रुपए चुरा लिए थे।इस काम में कंप्यूटर एक्सपर्ट्स शामिल थे,जिन्होंने हैकिंग के जरिए फाइनैंशल इन्फर्मेशन में हेर- फेर की। इसके अलावा कुछ और लोग भी थे,जिन्होंने एटीएम से पैसे निकाले। 

Ebola vaccine 'promising' ایبولا وائرس کے خلاف ویکسین تیار



طبعی شعبہ میں ہلچل، انسانوں پر پہلا تجربہ کامیاب
ایبولا وائرس کے انسداد کیلئے زیر آزمائش ویکسین کے پہلے مرحلے کے نتائج مثبت آئے ہیں، جس کے بعد محققین نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ وہ اِس مہلک وباکا علاج دریافت کرنے کے مزید ایک قدم قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی ’نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھ‘ یا NIH کے مطابق ایبولا وائرس کے خاتمہ کیلئے تیار کردہ ویکسین کی آزمائش کے پہلے مرحلے میں اسے بیس بالغ اور صحت مند افراد کو مختلف مقداروں میں دیا گیا۔ اس طبّی ٹیسٹ کا حصہ بننے والے تمام کے تمام افراد میں ایبولا وائرس کے خلاف کارآمد ثابت ہونے والی ’اینٹی باڈیز‘ بنیں۔ نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھ کے اس طبّی ٹیسٹ کے نتائج بدھ کے روز ’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘ میں شائع ہوئے۔یہ ویکسین ’گلیکسو اسمتھ کلائن‘ نامی ایک فارماسیوٹیکل کمپنی اور امریکی ’نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایلرجی اینڈ انفکشس ڈیزیز‘ کے اشتراک سے تیار کی جا رہی ہے۔ اس ادارہ کے سربراہ انتھونی فوسی کے بقول’جو ویکسین تیار کی جا رہی ہے، وہ اس وباکے خاتمہ اور مستقبل میں بڑے پیمانے پر پھیلاو ¿ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘ ان کے بقول انسانوں پر کی جانے والی پہلی طبّی آزمائش کے مثبت نتائج کی بنیاد پر وہ مستقبل قریب میں اسی طرز کے مزید بڑے ٹیسٹ کرنے کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ اس بات کا حتمی طور پر تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ ویکسین وائرس کے خاتمہ میں کار آمد ثابت ہو گی تاہم نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایلرجی اینڈ انفکشس ڈیزیز کے سربراہ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ویکسین ابھی ’فیلڈ‘ میں یا متاثرہ مقامات و ممالک میں استعمال سے کئی ماہ دور ہے۔امریکہ کے ادارہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایلرجی اینڈ انفکشس ڈیزیز کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایبولا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ مغربی افریقی ممالک میں سے ایک لائبیریا کے حکام کے ساتھ اس بارے میں مشاورت جاری ہے تا کہ وہاں اگلے مرحلہ کے ٹیسٹ کئے جائیں۔ تاہم ممکنہ ٹیسٹ آئندہ برس ہی ہو سکیں گے۔واضح رہے کہ وائٹ ہاو ¿س کی جانب سے ویکسین پر کام کرنے والے محققین کی ٹیم کو اس پیش رفت پر مبارک باد پیش کی گئی ہے۔ وائٹ ہاو ¿س کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر باراک اوباما آئندہ ہفتے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایلرجی اینڈ انفکشس ڈیزیز کے دفتر کا دورہ کریں گے۔یہ امر اہم ہے کہ ایبولا وائرس کے خاتمے کیلئے زیر آزمائش یہ واحد ویکسین نہیں ہے۔ ایک اور ویکسین، جس کا مقصد ایبولا کی ایک مخصوص قسم کو روکنا ہے، یونیورسٹی آف میری لینڈ میں اکتوبر سے زیر آزمائش ہے۔ کینیڈا میں بھی ایک اور ویکسین انسانوں پر ابتدائی آزمائش کے دوران مثبت نتائج ظاہر کر رہی ہے۔دریں اثناعالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ صرف ایک ہفتہ کے دوران ایبولا وائرس سے متاثرہ ممالک میں اس وباکے 6 سو نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق مغربی افریقہ میں اس خطرناک بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد اب بڑھ کر تقریبا16 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے مریضوں کی تعداد5 ہزار 6 سو99 ہو گئی ہے۔

Ebola vaccine 'promising' 
 The first human trial of an experimental vaccine against Ebola suggests that it is safe and may help the immune system to combat the virus. According to reports, twenty volunteers were immunised in the United States. Scientists at the US National Institutes of Health (NIH) described the results as "promising".
The research is published in the New England Journal of Medicine (NEJM).
None of those immunised suffered major side-effects and all produced antibodies.
Dr Anthony Fauci of the NIH told the BBC: "On safety and on the ability to produce an appropriate immune response we can call this trial an unqualified success, even though it was an early Phase One trial."
The volunteers were divided into two groups, receiving either a low or high dose. The antibody response was stronger among those receiving the higher dose.
The investigators found that seven of the high dose and two of the lose dose volunteers produced T-cell immune responses, which may be important in protection against Ebola viruses.
The vaccine uses a chimpanzee cold virus which has been genetically engineered to carry a non-infectious Ebola protein on its surface.
A health worker in Conakry, Guinea, wearing protective clothing A health worker in Conakry, Guinea, wearing protective clothing to treat victims
There are four trials underway of this experimental vaccine.
The US vaccine is bivalent - aimed at giving protection against the Sudan and Zaire strains of Ebola. It is the latter which is responsible for the current outbreak.
Trials of a monovalent vaccine - against the Zaire strain - are also underway in Oxford, Mali and Switzerland.
If these also yield positive results then the monovalent vaccine will be offered to thousands of health workers in west Africa.
Dr Fauci said: "It will be this large Phase Two / Three trial in west Africa which will show whether the vaccine works and is really safe."
He added: "If the outbreak is still is still going on six months from now and the vaccine at that point is shown to be effective, it could have a very positive impact on the current epidemic."
But he said the long-term aim was to produce a vaccine which would protect against future outbreaks.
If the vaccine does work, it is unclear how long the protection would last.
Indemnity agreement
These kinds of questions are usually settled during the early stages of human trials.
But such is the pressing humanitarian need for something which protects against Ebola, the whole trial process is being accelerated at unprecedented speed.
In an editorial in the NEJM Dr Daniel Bausch said that while the trial left many questions unanswered, an Ebola vaccine was "one step closer".
The experimental vaccine is being manufactured by the British drugs giant GlaxoSmithKline (GSK).
The company says it can produce one million doses a month by the end of 2015.
This will require a significant financial outlay. It is asking for an indemnity agreement in case problems such as unforeseen side effects were to emerge in the future.
GSK's chief executive Sir Andrew Witty told the BBC: "We are not waiting for that to be settled [but] it is obvious there are some risks that companies should not be expected to carry on their own."

No More A Walkover خاموشی کی دیواریں


سجاد احمد
کیا آپ نے کسی ایسی اہم شخصیت کو دیکھا ہے جسے اپنے پروٹوکوک کا ہی علم نہ ہو؟ جو بس میں سفر کررہی لیکن اس کے سیکورٹی گارڈ کار میں گھومتے ہوں؟دوشفٹوں میں پانچ پانچ محافطوں کی نگرانی میں رہنے والی وزیراعظم نریندرمودی کی یشوبین نے طویل عرصہ پر خاموشی توڑی بھی تو اس قسم کے سوالات کیساتھ۔عجیب بات تو یہ ہے کہ گذشتہ مئی میں ہندوستان میں ہوئے عام انتخابات سے پہلے ملک کے 5 ’بیچلرز‘ یاکنوارے رہنماو ں کے نام سامنے آ رہے تھے۔ نریندر مودی، راہل گاندھی، مایا وتی، جے للتا اور ممتا بنرجی لیکن اس کا کیا کیجئے کہ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے وقت نریندر مودی کا نام اس لسٹ سے باہر ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنا نام ’شادی شدہ کے زمرہ‘ میںپیش کیا تھا۔اور اس طرح عوامی زندگی میں پہلی بار ان کی ’خفیہ‘ بیوی کانام سامنے آیا۔ یشودابین کو سرکاری دستاویزات میں اپنی بیوی تسلیم کرنے کے باوجود نریندر مودی نے اس پر اپنی خاموشی آج تک نہیں توڑی ہے۔انھوں نے اب تک اس بات کی وضاحت بھی نہیں پیش کی ہے کہ آخر اب تک وہ خود کو ’بیچلر‘ کی طرح سے کیوں پیش کرتے رہے؟یشودابین کہہ چکی ہیں کہ برسوں سے ان کی جانب سے لکھے گئے خطوط کا انھیں کوئی جواب نہیں ملا ہے جبکہ خود کو شادی شدہ کہلوانے کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی نے یشودابین سے رابطہ نہیں کیا۔ ان کے درمیان 45 برسوں کی علیحدگی اور خاموشی کی دیواریں اب تک نہیں ٹوٹی ہیں۔ظاہر ہے یشودابین اسے اپنی توہین سمجھتی ہیں۔ گذشتہ دنوں میڈیا میں اچانک سے انٹرویو دینے کے پس پشت یشودابین کا مقصد جو بھی رہا ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ اب تک وہ اپنی خودداری کا دامن تھامے ہوئی ہیں۔اب حق اطلاعات اور معلومات کی رسائی کے قانون کے تحت یشودابین نے اپنے لئے مہیا کروائی گئی سکیورٹی پر سوالیہ نشان قائم کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ آخر انھیں کس قانون کے تحت یہ سکیورٹی فراہم کی گئی ہے اور اس کے تحت ان کے اور کیا حقوق ہیں؟انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آر ٹی آئی کے خصوصی ایکٹ کے تحت ان سوالات کے جواب انھیں 48 گھنٹے کے اندر فراہم کئے جائیں۔دوسری طرف نریندر مودی کے خلاف ایک شوہر کی حیثیت سے کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
مودی کی قربانی؟
نریندر مودی سے یشودابین کی شادی ہندو رسم و رواج کےمطابق ہوئی تھی۔ ایک ہندو بیوی ہونے کے سبب ان کے بہت سے حقوق ہیں لیکن یشودابین اپنے حق کی بھی بات نہیں کرتیں۔بی بی سی سے بات چیت کے دوران سوال پوچھنے پر انھوں نے اپنے شوہر کے گھر جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ لیکن ان کے مطابق وہ اسی صورت میں واپس لوٹیں گی جب ان کے شوہر خود انہیں فون کریں گے۔اگر نریندر مودی اپنی بیوی کو اس کی عزت اور احترام کریں گے تبھی وہ وہاں جائیں گی۔وزیر اعظم کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ ملک کی خدمت میںمصروف ہیں اور اپنی بیوی کو الگ رکھنا دراصل ان کی ایک بڑی قربانی ہے۔اس معاملہ پر ان کے حامیوں کے درمیان بھلے ہی ان کی مقبولیت کم نہیں ہوگی لیکن یشودابین کے سوالات کے بعد ان کے شوہرکے کردار پر ضرور سوال اٹھ رہے ہیں۔اپنی درخواست میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے محافظوں سے ڈر لگتا ہے۔ریٹائرڈ اسکول ٹیچر یشودا بین گجرات کے یشورواڑا گاو ¿ں میں اپنے بھائی کیساتھ رہتی ہیں۔عوام کو آج بھی یاد ہے کہ بی جے پی کی انتخابی ریاستوں میں جا کرمودی عوام کو یاد دلاتے رہے ہیں کہ کس طرح کانگریس نے 100 دنوں میں مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب مہنگائی پر بات بھی نہیں کرتی جوواقعی درست بھی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج سے 45 سال پہلے مودی نے بھی اپنی شریک حیات سے کچھ اسی قسم کے وعدے کئے تھے ، اگنی کو ساکشی مان کر7 عہد کئے تھے۔ کیا ان میں سے ایک بھی وعدہ نبھایا گیا ؟
زبردستی کی شادی؟
 مودی کی شادی کی خبریںبرسوں سے آ رہی ہیں۔ انگریزی میگزین نے یشودابےن کی نہ صرف تصاویر سمیت رپورٹ شائع کی بلکہ یو ٹیوب پر ان کا ویڈیو
http://www.youtube.com/watch?v=tHtbnK3i_Dkپر اور
http://www.youtube.com/watch?v=H-hJXeHYWfkپر بھی دیکھے گئے۔یہ کلپس بھی اس امر کا شاہد ہیں کہ میں نریندر دامودرداس مودی کی دھرم پتنی ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ مودی یا بی جے پی نے کبھی اس مسئلہ پر کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔ شاید ان کے پاس کہنے کو کچھ ہے بھی نہیں۔لیکن آگرہ سے شائع ایک ہندی روزنامہ نے ایک نجی تقریب میںشرکت کرنے والے سبرامنیم سوامی کے حوالہ سے یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ مودی واقعی شادی شدہ ہیں لیکن چونکہ ان کی شادی زبردستی ہو گئی تھی، اس لئے وہ ان کیساتھ نہیں رہتے۔ مودی کی ازدواجی زندگی پر مخالفین برسوں سے سوالیہ نشان قائم کرتے رہے ہیں لیکن مودی کے کسی حامی کی طرف سے اس کی تصدیق کا یہ پہلا موقع تھا۔ اس لئے میڈیا نے اس خبر کو ہاتھوں ہاتھ لپک لیا۔ لیکن جب بات آگ کی طرح پھیلنے لگی کہ سوامی نے مودی کی شادی کی تصدیق کی ہے تو مالک نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے اس کا انکار کیا۔واضح ہے، منہ پھٹ سوامی نے آف دی ریکارڈ کچھ کہا ہو گا اور وہاں موجود صحافی نے اس کی خبر بنا دی ہوگی۔جب یہ منظر عام پر آئی تو انھیں انکار کرنا پڑا۔
7پھیرے،7وعدے:
جب سوامی سے ٹوئٹر پر پوچھا گیاکہ آپ تو دشمنوں کی خفیہ معلومات جمع کرنے میں ماہر ہیں لیکن کیا اپنے دوست نریندر مودی کے بارے میں یہ بتانے کی تکلیف کریں گے کہ وہ شادی شدہ ہیں یا نہیں؟ مودی نے اپنی بیوی کو کیوں چھوڑ ا ،کیا اس لئے کہ وہ رام بھگت ہیں اور رام نے بھی سیتا کو چھوڑا تھا۔ لیکن اپنے دوست مودی کی طرح سوامی بھی خاموش رہے ۔ خاموشی سے حقیقت نہیں چھپتی جبکہ خاموشی اقرار کا اظہار ہوتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 18 سالہ لڑکی نے ایسا کیا قصور کیا تھا کہ اسے محض تین سال بعد ہی ’بن باس‘ مل گیا۔ اگنی کے گرد 7 پھیرے لیتے ہوئے مودی نے کبھی اس سے 7 وعدہ کئے تھے‘ وہ کیا ہیں؟ان سات وچنوں میں پہلا یہ وچن یہ ہے کہ یشودابےن نے مودی سے وعدہ لیا ہو گاکہ اگر آپ کبھی تیرتھ یاتراکو جاوں تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے جانا۔ کوئی ورت اپواس یا دیگر دھرمک کاریہ آپ کریں تو آج کی طرح مجھے اپنے بائیں حصہ میں ضرور جگہ دیں۔ اگر آپ اسے قبول کرتے ہیں تو میں آپ کی زوجیت میں آنا قبول کرتی ہوں۔
سخت و دشوارزندگی:
مودی نے اس وقت’ ہاں‘ کہا ہوگا لیکن اس وقت جب وہ آر ایس ایس کے پرچارک تھے، اور آج جب وہ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں تو ان کی بیوی کہاں ان کے کیساتھ ہے ؟ کیا ہوا مودی کا پہلا وعدہ کہ جہاں بھی جائیں گے، ان کو ساتھ لے جائیں گے ؟یشودابےن نے اس وقت دوسرا وعدہ لیا ہوگا کہ جس طرح آپ اپنے ماں باپ کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح میرے والدین کا بھی احترام کریں اورکنبہ کی پاسداری کے مطابق’ دھرم نشٹھان‘ کرتے ہوئے’ایشور بھگت‘بنے رہیں تو میں آپ کی زوجیت میں آنا قبول کرتی ہوں۔مودی نے اس پر بھی حامی بھری ہوگی لیکن کنبہ کی تو کیا ،انھوں نے کسی کی بھی لاج نہیں رکھی اور بیوی کو چھوڑ کر انہیں ایک تنہا زندگی جینے کی لعنت عطاکردی۔ یشودابےن نے کیسے اپنی پوری زندگی ٹین کی چھت والے ایک چھوٹے سے کمرے میں کاٹی جس میں ٹائلیٹ اور باتھ روم بھی میسر نہیں ہے، اس کے بارے میں تفصیل سے جاننے کیلئے ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹیںنوحہ خواں ہیں۔
 اپنا خرچہ خود کیابرداشت:
تیسرے وچن میں یشودابےن نے کہا ہوگا کہ آپ مجھے یہ وعدہ کریں کہ آپ زندگی کی تینوں صورتوںیعنی یواوستھایانوجوانی ، پروڑھاوستھایاادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں میرا ’پالن پوشن‘ کرتے رہیں گے ، تو میں آپ کی زوجیت میں آنے کو تیار ہوں۔مودی نے پھر حامی بھری ہوگی لیکن آپ جانتے ہی ہیں کہ ان اقوال کو انہوں نے کس حد تک نبھایاہے؟ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ اپنے شوہر کی خواہش پوری کرنے کیلئے اور خود کو ان کے دوستانہ دکھانے کا یشودابےن جو شادی کے وقت محض ساتویںکلاس پاس تھیں واپس اپنے میکہ آ گئیں اور وہاں دسویں کی پڑھائی پوری کی لیکن نریندر بھائی نے اس وقت بھی ان کو نہیں اپنایا حالانکہ اس سے ان کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ آگے جاکر ٹیچر بن پائیں اور اپنا خرچہ خود برداشت کرسکیں۔یشودابےن نے شادی ویدی پر چوتھا وعدہ یہ لیا ہوگا کہ اب تک آپ کے گھر ‘ خاندان کی فکر سے مکمل طور آزاد تھے‘ لیکن اب جبکہ آپ نے شادی بندھن میں بندھنے جا رہے ہیں تو مستقبل میں خاندان کی تمام ضروریات کی تکمیل کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے۔ اگر آپ کو اس بوجھ کو برداشت کرنے کی عہد کریں تو ہی میں آپ زوجیت میں آ سکتی ہوں۔مودی نے یہ وعدہ بھی کیا ہو گا لیکن کیا انہوں نے ان کا خیال رکھا ؟ جیسا کہ’ اوپن ‘میگزین کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ یشودابےن اسکول میں پڑھاکر اپنی گزر بسر کرتی رہیں جبکہ مودی نے کبھی مڑ کر دیکھا بھی نہیں کہ وہ جیتی ہیں یا مرتی ہیں۔
کہاں گئی بیوی کی منشا؟
پانچواں وعدہ یشودابےن نے یہ لیاہو گاکہ آپ کے گھر کے کاموں میںشادی سے متعلق لین دین یا دیگر کسی کیلئے خرچ کرتے وقت اگر آپ کو میری منشا بھی حاصل کرلیا کریں تو میں آپ کی زوجیت میں آنا قبول کرتی ہوں۔یہ وعدہ بھی کیا گیا ہو گا لیکن کتنا عمل ہوا، کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔چھٹا قول بہت ہی اہم ہے۔ یشودابےن نے کہا ہوگاکہ اگر میں اپنی سکھیوں یا دیگر عورتوں کے درمیان بیٹھی ہوں تو آپ وہاں سب کے سامنے کسی بھی وجہ سے میری توہین نہیں کریں گے۔ اگر آپ جوا یا دیگر کسی بھی قسم کی بدسلوکی سے اپنے آپ کو دور رکھیں تو ہی میں آپ کی زوجیت میں آنا قبول کرتی ہوں۔مودی نے اس پر بھی حامی بھری ہوگی لیکن سکھیو ںکے سامنے کیا ، انہوں نے تو ساری دنیا کے سامنے ان کی توہین کر دی۔ بدچلن بیوی کا داغ جس خاتون پر لگتا ہے ، وہی سمجھ سکتی ہے اس ذلت کے عذاب کو‘ ایک ایسی توہین جسے وہ تل تل جھےلتی رہی ہیں۔ ہر دن، ہرلمحہ ،ہرپل یہ تکلیف اس بات سے اور بڑھ جاتی ہے کہ آپ کو دنیا کے سامنے یہ کہنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے کہ آپ نریندر مودی کی بیوی ہیں کیونکہ آپ کو خدشہ لاحق ہے کہ کہیں انتظامیہ آپ کیخلاف نہ ہو جائے۔ اس رپورٹ کے مطابق یشودابےن پہلے تیار ہو گئی تھیں کہ وہ صحافی کو سب کچھ بتائیں گی لیکن ہیڈ ماسٹر کی طرف سے ٹوکنے پر وہ بعد میں پلٹ گئیں۔ انہوں نے کہاکہ’میں اپنے شوہر کے خلاف کچھ نہیںکہوںگی‘ وہ بہت طاقتوراوربااثر ہیں۔ ایک یہی کام ہے جس کے بھروسے میری روزی روٹی چل رہی ہے۔ میں نے کچھ کہہ دیا تو میرا جینا حرام ہو جائے گا۔‘
پچھتاواکیوں نہیں؟
اب ساتواں اور آخری وعدہ یاد دلائیں ؟ ساتویں قول کے طور پر یشودابےن نے یہ کہا ہوگاکہ آپ پرائی عورتوں کو ماں کی طرح سمجھیں گے اورمیاںبیوی کی آپسی محبت کے درمیان دیگر کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ اگر آپ یہ قول مجھے دیں تو ہی میں آپ کی زوجیت میں آنا قبول کرتی ہوں۔مودی نے یہ آخری وعدہ بھی کیا ہو گا اور اسے اس طرح نبھایا کہ شادی کے کچھ ہی دنوں بعد انھیں چھوڑ دیا۔اتنے برسوں سے تنہا اور چھوڑ دیا زندگی جینے والی یشودابےن کی کیا حالت ہو گئی ہے ، یہ جاننے کیلئے یوٹیوب پر موجود ویڈیوکو دیکھاجاسکتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مودی کوآج بھی اپنے کرتوتوں پر پچھتاواکیوں نہیں ہوتا ؟ وہ بیچاری آج بھی انہی کا نام کیوں جپتی ہیں اور یہ ہیں کہ’ دش ینت‘ کی طرح انہیں بھلا بیٹھے ہیں اوریہ بھی فراموش کرچکے ہیںکہ انھوں نے شادی کے7 پھیروں کے دوران7 وعدے کئے تھے جو ایفاکے منتظر ہیں!عجیب بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 5 ستمبر کو یوم اساتذہ کے موقع پر اساتذہ اور طلبا کے والدین کو اپنے بچوں کا کردار بہترکرنے کا مشورہ دیا تھا۔طالب علموں کے کردار کی تعمیر کے حوالہ سے انھوں نے کافی دیر تک تقریر کی تھی۔اگر وائف ڈے یعنی ’یوم شریک حیات‘ جیسا کوئی دن ہوتا تو اس موقع پر وزیر اعظم کیا مشورہ دیتے؟ اور اگر کوئی مشورہ دیتے تو ان کی بیوی یشودابین کا ردعمل کیا ہوتا؟یہ تمام سوالات تصوراتی ضرور ہیں لیکن ان سے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی الجھنیں کافی حد تک بڑھ سکتی ہیںلیکن کیا کسی میں ان کی ذاتی زندگی سے متعلق اس سوال کوپوچھنے کی ہمت ہے کہ ’مودی جی کیا آپ کامیاب شوہر بھی ہیں؟‘

No More A Walkover

By: Sajjad Ahmed
In a country where even Lord Rama’s Maryada Purshottam status has been subjected to scrutiny for his decision to cast his wife into wilderness and then insist on an agni pariksha, it is surprising how easily we let the debate on Jashodaben fade away into insignificance. According to reports, Nov 25, 2014, it has been almost six months since her husband became the Prime Minister. But apart from the fleeting interest in her when Narendra Modi finally accepted his marital status while filing his nomination papers, we let Jashodaben disappear from our discourse.
That is partly because of the unwritten covenant that makes us squeamish while discussing the private lives of our powerful politicians. But a part of our reluctance (some may call it indifference) is also because Jashodaben had preferred complete silence over her life and was reluctant to bring it under the public spotlight.
Though it is tempting to explore the lives of politician’s who aspire to positions of great power and responsibility in great detail, somehow it did not seem right to pry into the life of a simple woman who appeared to have already gone through a lot of trauma and pain. Jashodaben always appeared to be worthy of sympathy and respect than of becoming the subject of a political controversy.
But her decision to come out in the open and draw attention to her plight changes all that. Her desperate but brave act shows Jashodaben doesn’t just need our silent sympathy; she also needs of our vocal support in the fight for her rights.
For, whatever be our PM’s compulsions, this is not the life that Jashodaben deserves. Her husband may or may not be blamed for it -- you can perhaps blame her stars -- but her current plight is certainly not Jashodaben’s fault. This is not the result of her karma.
A few days ago, Jashodaben had, after years of dignified silence, told a TV channel she was willing to live with her husband if he is ready too. On Monday, her brother Ashok Modi made a poignant statement: “Je prem emne malvu joiye, e nathi maltu (she is not getting the love she deserves). Knowing the PM and the troubled history of his marital life, it would be too much to expect him to bestow on his wife the kind of status others in her position have enjoyed.
But, is it too much to let her live in dignity? Is it right, as she pointed out, to let her travel in public transport even as the SPG guards who tail her use government vehicles? Would heavens fall on us if she gets some of the facilities that a PM’s wife is entitled to? Will we, as a nation, start jumping up and down if Jashodaben gets a decent house and is spared the humiliation of moving around on a two-wheeler?
It would be wrong to not see this from the PM’s point of view. Having built the image of a selfless servant of the country, India’s pradhan sevak who doesn’t get distracted by family and friends, Modi may not be willing to favour his wife, or for that matter even his mother.
But India is a country of great depth. It respects qualities like steely resolve and unwavering dedication to one’s professed principles. But this country equally reveres those who give the highest importance to justice. Now that Jashodaben has raised her voice for her rights, it would be a blot on Modi’s image if she is ignored. We need to ask ourselves just one question: What would have been Modi’s response if an ordinary housewife had approached him to seek her basic rights?

4 Questions & 4 Answers


1. The Holy Prophet2. Hadrat Abu Bakr Siddique3. Hadrat Umar Farooq
 चार सवाल चार जवाब
एक निसरानी ( ईसाई ) बादशाह ने चार
सवाल
लिख कर हजरत उमर
रज़ी अल्लाहु अन्हु के पास भेजा।।।
उनके जवाब आसमानी किताबों में से देने
का मुतालबा किया।।।
सवाल ये हैं
1: एक माँ के पेट से दो बच्चे एक ही दिन
एक ही वक्त
पैदा हुए।।
फिर
दोनों का इंतिकाल भी एक ही दिन हुआ
एक भाई
की उम्र सो साल
बड़ी और दुसरे की उम्र सौ साल
छोटी हुई। ये
कौन थे...?
और ऐसा किस तरह हुआ...?
2: वो कौन सी जमीन है जहां शुरुआत से
कयामत तक
सिर्फ एक
बार
सूरज की किरने लगीं।।।
न पहले कभी लगीं थी न अब
कभी लगेंगी....?
3: वो कौन सा कैदी है जिसकी कैदखानें में
सांस
लेने की इजाजत
नहीं और वो बगैर सांस लिए
जिंदा रहता है....?
4: वो कौन सी कबर है
जिसका मुर्दा भी जिंदा और कबर
भी जिंदा और
कबर अपने अंदर दफन हुए को सैर
कराती फिरती थी फिर
वो मुर्दा कबर से बाहर निकल कर
ज़िंदा रहा और
कुछ दिनों बाद
वफात
पाया...?
हजरत उमर रज़ी अल्लाहु अन्हु ने हजरत
अब्दुल्लाह
बिन अब्बास
रज़ी अल्लाहु अन्हु को बुलाया और
फरमाया इन
सवालों के जवाब
लिख
दें।।।
हज़रत अब्दुल्लाह राज़ी अल्लाहु अन्हु ने
तहरीरें
कलमबंद कीं।।।
जवाब
1: जो दोनों भाई एक ही दिन पैदा हुए
और एक
ही दिन वफात पाई
और
उनकी उम्र में सौ साल का फर्क़ है
वो दोनों भाई
हज़रत अज़ीज़ और
हज़रत उज़ैर अलैहिस्सलाम हैं।।।
ये दोनों भाई एक ही दिन एक ही माँ के
पेट से
पैदा हुए और एक
ही दिन
वफात पाई ।।
लेकिन अल्लाह तआला ने अपनी कुदरत
दिखाने के
लिए उज़ैर
अलैहिस्सलाम को पुरे सौ साल मारे
रखा ।
सौ साल मौत के बाद
अल्लाह ने जिंदगी बख्शी ।।
सूरह आल-इमरान में ये ज़िक्र मौजूद है।।
वो घर गए
और कुछ दिन
जिंदा रहकर मौत आई।।।
दोनों भाइयों की वफात भी एक दिन हुई
इसलए
इसलिए उज़ैर
अलैहिस्सलाम की ऊम्र अपने भाई से
छोटी हुई और
हज़रत अज़ीज़
अलैहिस्सलाम की बड़ी।।।
2: वो जमीन समुन्द्र की खाड़ी कुलज़िम
की तह है
जहां फिरऔन
मरदूद
गर्क हुआ था हजरत मूसा अलैहिस्सलाम के
मोजिज़े
( चमत्कार ) से
समुन्द्र सुखा था और हुक्म इलाही से सूरज
ने बहुत
जल्द सुखाय
था।।।
हज़रत मूसा अलैहिस्सलाम अपनी कौम
बनी इसराइल के साथ पार चले
गए और जब फिरऔन दाखिल हुआ तो डूब
गया उस
जमीन पर सूरज
एक बार लगा और अब कयामत तक
नहीं लगेगा।।।
3: जिस कैदी को कैदखाने में सांस लेने
की इजाज़त
नहीं और
वो बगैर
सांस लिए ज़िंदा रहता है
वो बच्चा अपनी माँ के
पेट में कैद होता है '
अल्लाह तआला ने उसके सांस लेने का ज़िक्र
नहीं किया और न
वो सांस लेता है।।।
4: कबर जिसका मुर्दा भी जिंदा और कबर
भी जिंदा वो मुर्दा हजरत
युनुस अलैहिस्सलाम थे और उनकी कबर
मछली थी जो उनको पेट में
रखे जगह जगह फिरती थी । हज़रत युनुस
अलैहिस्सलाम अल्लाह के
हुक्म से मछली के पेट से बाहर आकर कुछ
साल
ज़िंदा रहे फिर वफात
पाई।।।

An App To Get Rid From Smartphone Addiction اسمارٹ فون کی لت ؟


سجاد احمد
ان دنوں اسمارٹ فونوں کے رواج نے کچھ ایسا غضب ڈھایا ہے کہ منشیات کی طرح اب اسے چھٹکارے کی سبیلیں تلاش کی جانے لگی ہیں۔ا سمارٹ فون کیساتھ زیادہ وقت گزارنے والوں کیخلاف خطرہ کی گھنٹی تو اسی وقت بج گئی تھی جب الیکٹرو میگنٹک ریز کے مضر اثرات نے ماہرین کو چونکنے پر مجبور کردیا تھا۔ دوسرا جھٹکا اس وقت لگا جب سمارٹ فون کیساتھ گزارنے پرریڑھ کی ہڈی کی شامت آنے کی اطلاعات منظر عام پر آئیں۔ماہرین نے مطلع کیا کہ 60 ڈگری زاویہ کی پوزیشن پر رکھ کر استعمال کیا جانے والا اسمارٹ فون ایسا ہے جیسے کہ آپ نے اپنی گردن پر 60 پونڈ کے مساوی وزن اٹھا رکھا ہو جو ریڑھ کی ہڈی کو بہت برے طریقہ سے متاثر کرتا ہے کہ جس کے بعد سرجری کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ یہ نقصانات جب جسم سے ہوتے ہوئے معاشرہ پر پڑنے لگے تو سنگاپور میں3 طلبہ ایک ایسی ایپ تیار کرنے کیلئے فنڈنگ کے حقدار قرار پائے گئے جو لوگوں کوا سمارٹ فون کے استعمال سے روکنے کی ترغیب دے گی۔کسی کو شک ہوتو وہ سنگاپور کے اخبار ’اسٹریٹس ٹائمز‘ کی ویب سائٹ ملاحظہ کرسکتا ہے جس کے مطابق ’ایپل ٹری‘ نامی اس ایپ کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سارا سارا دن فون سے چمٹے رہنے کی بجائے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے پاس جا کر ان سے بالمشافہ ملاقات کریں۔
کس کو اور کیسے آیااس ایپ کا خیال ؟
یہ مخصوص ایپ کتنا موثر ثابت ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا جبکہ یہ ایپ ساتھ رکھے ہوئے دو یا اس سے زیادہ فونوں کو ساکت کر دیتا ہے۔ یہ ایپ اس طرح کام کرتا ہے کہ اگر دو یا دو سے زیادہ دوست اپنے فون ایک جگہ رکھ دیں تو ان کے فون ساکت ہو جائیں گے۔ اگر کوئی صارف فون کو نہ چھوئے تو اس کی ا سکرین پر سیب کا ایک درخت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور اس پر ڈیجیٹل پھل اگ آتے ہیں۔چینل نیوز ایشیا کا کہنا ہے کہ ان پھلوں کے عوض انعامات حاصل کئے جا سکتے ہیں۔یعنی آپ جتنا زیادہ وقت اپنے فون کو ہاتھ نہیں لگائیں گے، انعام بھی اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔مزید یہ کہ سنگاپور کے زیادہ سے زیادہ باسیوں کو قریب لانے کیلئے اس ایپ کو سالانہ ’سپلیش ایوارڈز‘ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔طالب علم لیبرن لِن کہتے ہیں کہ ان کے دوست گپ شپ کیلئے اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران ان کے فون ساتھ ساتھ رکھے ہوئے تھے، بس یہیں سے انھیں یہ ایپ بنانے کا خیال آیا۔ یہ خیال اتنا مقبول ہوا کہ اس گروپ کو مارچ 2015 تک ’ایپل ٹری‘ ایپ بنانے کیلئے 24 ہزار امریکی ڈالر کی فنڈنگ دے دی گئی۔یہ ایپ سنگا پور کی 50ویں سالگرہ پر ریلیز کیا جائے گا۔
کہاں سے آیا اسمارٹ فون؟
 اگر10 ،15برس پہلے کا تصور کریں تو اس وقت برصغیر ہند،پاک میں موبائل فون کو ایک لگژری اور صرف امراءکی عیاشی کی چیز سمجھا جاتا تھالیکن اس کا کیا کیجئے کہ بہت سی غیر ملکی کمپنیاں موبائل سیکٹر میں سرمایہ کاری کیلئے کودیں اورپھر دیکھتے ہی دیکھتے موبائل فون لگژری کی بجائے عام ضرورت کی چیز بن گیا۔آ ج یہ ہے کہ قریب 65 تا 70 فیصد آبادی کے پاس ایک عدد فون موجود ہے۔بالکل یہی صورتحال آجکل سمارٹ فون یعنی اسمارٹ فون کے حوالہ سے درپیش ہے۔جو کہ ایک لگژری اور ’اسٹیٹس سمبل ‘سے بڑھ کر اب متوسط طبقہ میں بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔2Gکے بعدرہی سہی کسر 3Gموبائل نیٹورک نے پوری کردی ہے۔2G کی نیلامی کے حوالہ سے قانون اپنا کام کرتا ہے لیکن اس سے قطع نظر موبائل کے ذریعہ صارفین کی انٹرنیٹ سے وابستگی دن بدن عروج پر ہے۔
کیا ہے اسمارٹ فون؟
دراصل’ اسمارٹ فون‘ بھی بنیادی طور پر ایک موبائل فون ہی ہوتا ہے جو کہ ایک موبائل آپریٹنگ سسٹم سے لیس،جدیداور ذیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت کیساتھ ساتھ بیک وقت مختلف الاقسام موبائل نیٹ ورک ، 2G،3Gوغیرہ کیساتھ منسلک ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ابتداءمیں عام فیچر موبائل فون میں ذاتی ڈیجیٹل معاون کی خصوصیات کو یکجا کیا گیا۔اس کے بعد پورٹیبل میڈیا پلیئر کی خوبی کا اضافہ ہوا۔ بعد ازاں رفتہ فتہ کم صلاحیت کے ڈیجیٹل کیمرہ ، جیبی وڈیو ریکارڈر اور حتی' کہ دستی جی پی ایس نیوی گیٹر جیسی اضافی صلاحیتوں کو جمع کر کے ایک کثیر المقاصد آلہ یعنی اسمارٹ فون کا نام دیا گیا۔جس میں نت نئے سینسرز کا اضافہ آئے دن جاری ہے۔
 وائی فائی کنیکٹی وٹی:
آجکل کے’ اسمارٹ فونوں میں ہائی ریزولیشن ا سکرین، ڈاٹا کی تیز رفتار منتقلی کیلئے نئی جنریشن کے3Gو4G موبائل نیٹورک کیساتھ ساتھ وائی فائی کے ذریعہ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کی صلاحیت اور مکمل ویب براو ¿زر سے بھی لیس ہوتے ہیں،جو کہ موبائل کیلئے تیار ویب صفحات کے علاوہ عام ویب پیج بھی دکھا سکتے ہیں۔براو ¿زنگ کے علاوہ موبائل سکرین پرآپ HDوڈیو اور آڈیوسے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔موجودہ چند سالوں میں تیز رفتار موبائل نیٹورک اور کثیر تعداد میں ٹھرڈ پارٹی موبائل اطلاقیوںیاApps کی دستیابی سے اسمارٹ فون کے استعمال میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
کیا ہے فیچر فون اور اسمارٹ فون میں فرق:
اسمارٹ فون اور فیچر فون میں فرق بہت مبہم ہے اور ایسی کوئی واضح و متفقہ تعریف میسر نہیں ہے جس کی بنیاد پر دونوں میں فرق کیا جا سکے تاہم ایک بنیادی ا ور اہم فرق یہ ہے کہ اسمارٹ فون میںتھرڈ پارٹی اطلاقیوںApps کی تیاری کیلئے فون کے آپریٹنگ سسٹم اور ہارڈ ویئر تک آسان رسائی ا ور ہم آہنگی کیلئے بہتر اور جدید اپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیسAPIمہیا کیا جاتا ہے جبکہ فیچر فون عموماً ملکیتی فرم ویئر پر مشتمل ہوتے ہیں جن میںتھرڈ پارٹی ایپAPP کو Java MEیا BREWجیسے پلیٹ فارم کے ذریعہ سپورٹ مہیا کی جاتی ہے۔
جدید تریںا سمارٹ فونوں کا سیلاب:
ایک اور پیچیدگی جو فیچر فون اور اسمارٹ فون میں فرق کرنے میں رکاوٹ یہ پیش آتی ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ جدید فیچر فون کی خصوصیات بھی ماضی میں اسمارٹ فون کی حیثیت سے فروخت کئے گئے موبائل فون سے زیادہ ہو گئے۔اس کے علاوہ موجودہ دور میں کچھ مینوفیکچرر اپنے جدید اسمارٹ فون کیلئے ’سپرفون‘ یا’ فیبلٹ‘ کی اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں جو کہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان فون کی کمپیوٹنگ صلاحیت کم درجہ کے ٹیبلٹ پی سی کے جیسی ہے۔
جاپان کا کارنامہ:
اکیسوی صدی کے آغازمیں ترقی یافتہ ممالک میں اسمارٹ فون کے استعمال میں تیزی آئی، اور مختلف نئے تازہ دم کھلاڑی بھی میدان میں آئے انہیں میں سے پہلی پیش رفت اور مشہور و معروف موبائل ساز اداروں جاپان کی سونی اورس ویڈن کے ایریکسن نے مشترکہ طور پر سونی ایریکسن کی بنیاد 2001 میں رکھی اور سمبین پر مشتمل فون P800پیش کیا۔
سیمسنگ کا سحر:
دریں اثنانوکیا نے تیسری نسل کے کمیونیکیٹر9210کو متعارف کروایا جودوسروں جدتوں کے علاوہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ کلر ڈسپلے کا حامل پہلاا سمارٹ فون تھا اور ساتھ ہی اس میں GEOS کی بجائے سمبئین Symbianآپریٹنگ سسٹم کو استعمال کیا گیا۔ یوں ابتداءہی سے آنے والی دہائی میں سمبئین اور نوکیا کو اسمارٹ فون کے میدان میں حکمرانی حاصل ہوئی جو آئندہ دہائی تک جاری رہی۔اگرچہ اس دوران جنوبی کورین کمپنی سیمسنگ SPHi500(پام او ایس) ،Segem اور مٹرولاکی جانب سے اسمارٹ فون تیار کرنے کی رفتار میں خ خاصی تیزی آچکی تھی لیکن 2002میں مزید دونئے اداروں کی آمد سے اسمارٹ فون کی دوڑ صحیح رفتارسے شروع ہوتی ہے۔
بلیک بیری بنام ایچ ٹی سی:
مذکورہ اداروں میں پہلے فریق کینیڈ ین کمپنی ریسرچ ان موشنRIMنے پوری قوت سے بلیک بیری 5810کے نام سےQwertyکی بورڈ سے آراستہ اسمارٹ فون سے اس میدان میں قدم رکھا تو دوسری طرف تائیوان کے ادارے ہائی ٹیک کارپوریشن بمعروف HTCجو پہلے بھی دوسرے اداروں کیلئے موبائل تیار کر رہا تھا،نے اپنے’ برانڈ نیم ‘کیساتھ مارکیٹ میں Canaryاسمارٹ فون کی صورت میں قدم رکھا۔دونوں اداروں نے اعلی معیار کے ا سمارٹ فون متعارف کروانے میں اپنی منفرد شناخت بنائی۔
 اینڈرائڈ کا جلوہ:
یوں تو2003کے دوران ہی ایک اور تبدیلی کی جانب پیش قدمی شروع ہوئی جو اس وقت دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی، لیکن بعد میں اس نے اسمارٹ فون انڈسٹری کو نئی بلندیوں تک پہنچادیا۔ایپل کے ایک سابقہ ملازم اینڈی روبن نے اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم لینکس کے کرنل پر مشتمل ایک نئے موبائل آپریٹنگ سسٹم کی تیاری کیلئے اینڈرائڈ انکارپوریشن کی بنیاد رکھی،جسے بعد ازاں آئندہ برس سال گوگل نے خرید لیا اور یہ آخر کار موجودہ دور کا کامیاب ترین آپریٹنگ سسٹم ثابت ہوا۔یہ الگ بات ہے کہ اسی سال نوکیا کی جانب سے 6600 نام کا ایک کامیاب سمبئین اسمارٹ فون متعارف کروایاگیا جسے پوری دنیا میں مقبولیت حاصل ہوئی۔
نوکیاکا سنہرا دور:
دوسری جانب نوکیا نے 2004 اور اگلے 3 برس نئے ڈیزائن متعارف کروائے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ اسی دوران امریکہ اور کنیڈا کی مارکیٹ میں بلیک بیری کی حکمرانی رہی، خاص طورپر کاروباری طبقہ کیلئے خاص ایپس اور Qwerty کی بورڈ بلیک بیری کی منفرد شناخت ثابت ہوئے۔اسی سال نوکیا کمیونیکیٹر سریز کاآخری ماڈل 9500 اور اسکا ساتھ کم فیچر 9300 متعارف کروایا گیا۔9500 نوکیا کا پہلا کیمرہ اور وائی فائی سے مزین کمپنی کا اسمارٹ فون تھا۔نوکیا نے2005 مین دو نئی سیریز متعارف کروائیں،پہلی N سیریز جو کہ ملٹی میڈیا سروسز یعنی میوزک پلے بیک ، ذبردست کیمرے اور WLAN کنیکٹوٹی کی وجہ سے مشہور ہوئی جبکہ دوسری بلیک بیری کے مقابلہ میںQwertyسیریزجو Eبزنس صارفین کے لئے ’کی پیڈ ‘کیساتھ وائرلیس نیٹ ورک سے منسلک ہونے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
 اجارہ داری کو چیلنج:
2006 کے دوران نوکیا کا پہلا ٹچ ا سکرین اسمارٹ فون 7710 پیش کیا گیالیکن یہ کامیاب ثابت نہ ہو سکا،جس پر نوکیا نے ٹچ اسکرین موبائل کے نئے ماڈلوں کی تیاری مو ¿خر کر کی اپنی توجہ EاورN سیریز کے کامیاب موبائل پر مرکوزکر لی۔لیکن اس کا کیا کیجئے کہ ان کامیاب ماڈلوںمیں ٹچ انٹرفیس کے علاوہ ہر خوبی موجود تھی جبکہ کسی نئے ادارہ کیلئے ٹچ ا سکرین ہی ایک واحد راستہ تھا جس سے نوکیا کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جا سکتا تھا۔
 ایپل کا سنگ میل:
2007اسمارٹ فون کی تاریخ کا یادگار ترین سال ثابت ہواجبکہ جون 2007میں ایپل انکارپوریشن iPhone کے ذریعہ ا سمارٹ فون کے میدان میں اور پہلے ہی وار میں سب حریفوں کو گھائل کر کے رکھ دیا،اگرچہ یہ مکمل سمارٹ فون نہیں تھا کیونکہ اس میں تھرڈ پارٹی اطلاقیے نصب کرنے کی سہولت نہیں تھی مگر پھر بھی اسکا یوزر انٹرفیس آئندہ آنے والے اسمارٹ فونوں کیلئے معیارStandardبن گیا ،اور مسقبل میں سب اسمارٹ فون انٹرفیس اسی طرز پر ڈیزائن کئے جانے لگے۔ iPhoneمیں ملٹی ٹچ خوبی کیساتھ ساتھ براہ راست انگلیوں کے لمس سے ان پٹ دی جا سکتی تھی اور اس سے پہلے ٹچ موبائل میں ان پٹ کیلئے مخصوص قلمStylus استعمال کیا جاتا تھا۔
چھوٹے اسکرین سے ناکامی:
اسی دوران نوکیا نے بغیر ٹچ کے اعلی معیار سمبئین اسمارٹ فون بنانے کا سلسلہ جاری رکھااور ایک جدید ترین موبائل N95آئی فون سے قبل مارچ2007 میں مارکیٹ میں پیش کیا،اگرچہ اسکے ابتدائی فروخت میں کچھ سافٹ ویئر خرابیاں تھیںلیکن یہ اس دور کا بہترین موبائل تھا،جو کہ آج بھی 5میگا پکسل کے اعلی معیار کیمرہ،وائی فائی ،G3 ،جی پی ایس،ایکسلیریٹو میڑ اور TVoutجیسی خوبیوں کی بدولت اتنا ہی کارآمد ہے جتنا اس وقت تھالیکن اس میں صرف اسکی 2.6انچ بغیر ٹچ اسکرین ہی ایک ماضی کا حصہ لگتی ہے۔
بزنس کلاس بنی نشانہ:
اس دوران یوروپ اور ایشائی مارکیٹ پر نوکیا جبکہ مشرقی امریکہ میں بلیک بیری کی حکمرانی تھی لیکن بلیک بیری عام صارفین کی بجائے بزنس کلاس کے کیلئے اسمارٹ فون تیار کرنے پر توجہ رکھی۔جبکہ HTCنے اپنی توانائیاں ونڈوز موبائل سے آراستہ پاکٹ پی سی طرز کے موبائل وضع کرنے پر مرکوز صرف کیں۔
اوپن ہینڈسیٹ الائنس:
2007 ہی میں گوگل نے ہارڈ ویئر ،سافٹ ویئر اور موبائل نیٹورک آپریٹرز کے اہم ترین 34 کمپنیوں کیساتھ ملکر Open Handset Allianceکی بنیاد رکھی ،جسکا مقصد تجارتی موبائل کے مقابلے اور آذاد معیارات متعارف کرانا اور انکو جدید تر بنانا تھا۔ساتھ ہی موبائل کیلئے آزاد مصدر آپریٹنگ سسٹم اینڈرائڈ لانچ کیا گیا۔
 ایپل ایپ اسٹور:
2008 کے دوران ایپل نے نیا آئی فون 3Gپیش کیا۔اس آئی فون میںWeb 2ٹیکنالوجی پر تیار کئے تھرڈ پارٹی اپلی کیشن نصب کئے جا سکتے تھے۔ ساتھ ہی ایپل نے آنلائن ایپ اسٹور کا تصور دیا ،جہاں سے صارفین براہ راست اطلاقیہ یعنیApp کو اپنے فون میں اتار کر یا ڈاو ¿ن لوڈ کرکے فی الفور نصب کر سکتے تھے۔ اس سے اطلاقیوں کی تیاری میں انقلاب پیدا ہوا۔
پہلا اینڈرائڈ:
اسی دوران اینڈائڈ آپریٹنگ سسٹم کے سلسلہ میں پہلی قابل ذکر پیش رفت ہوئی جب HTCکی جانب سے پہلا اینڈرائڈ اسمارٹ فونDreamمارکیٹ میں پیش کیا گیا۔بعد ازاں ادارے نے اپنے مزید اینڈرائد اسمارٹ فون Touch pro ،Touch DiamondاورTouch HDبھی مارکیٹ کی زینت بنائے۔ سونی ایریکسن نے لگڑری ونڈوز موبائل پر مشتمل اسمارٹ فون Xperia X1تیار کیا تو بلآخر نوکیا نے بھی ٹچ فون کے خطرہ کا ادراک کرتے ہوئے سمبین ٹچ موبائل 5800 مقابلہ میں پیش کیا۔اسی سال کی پیڈ کی بجائے ٹچ اسمارٹ فونوں کی عالمی مارکیٹ میں سبقت کا آغاز ہوا۔
سینس کی آمد:
 2009میں اینڈرائڈ موبائل کثرت سے دستیاب تھے۔HTC نے دو غیر راویتی ماڈل Heroاور Tatto کیساتھ ایک کم قیمت ورژنSenceبھی پیش کیا۔ساتھ ہی پام نے ایک نیا آپریٹنگ سسٹم Web OSاپنے ناکام پام اوایس کی جگہ پیس کیا۔اگرچہ قابل ذکر کامیابی تو حاصل نہ کر سکالیکن کمپیوٹر سے منسلک کامیاب صنعتی ادارے ایچ پی کو یہ بہت دلچسب محسوس ہوا اور اس نے پام کو خرید لیا اور بعد ازاں hp WebOSکے نام سے جاری کیا لیکن یہ کامیابی نہ حاصل کر سکا۔ ایپل کی جانب سے آئی فون3GSکی آمد ہوئی جو 16 اور32جی بی کی میموری کیساتھ دستیاب تھا۔
نوکیاکے نئے تجربات:
اسی دوران نوکیا کی جانب سے ایک اور دلچسپ قدم اٹھایا گیا جب اس نے سمبین کی بجائے لینکس سے اخذ کردہ Maemo OSپر مشتمل موبائل N900 پیش کیاجو اپنی زیادہ قیمت اور مشکل انٹرفیس کی وجہ سے مقبولیت سے محروم رہا۔ ساتھ ہی نوکیا نے N800اور N810کے نام سے ٹیبلٹ بھی فروخت کیں۔سونی ایریکسن کی جانب سے Xperia X10اینڈرائڈ اسمارٹ فون مارکیٹ میں متعارف ہوا۔
 رجحانات کا اداراک:
سیمسنگ جو ابھی تک پوری قوت سے اسمارٹ فون سے میدان میں نہیں اترا تھا،موبائل مارکیٹ میں بدلتے رجحانات کا اداراک کرنے ہوئے اپنے ملیکتی Touchwiz انٹرفیس کیساتھ نئے اینڈرائڈ او ایس سے مزین اپنی بے حد کامیاب گلیکسی لائن کا پہلا اینڈرائڈ فون i7500پیش کیا۔2010 میں سیمسنگ نے اگرچہ اسمارٹ فون کیلئے اپنا تیار کردہ باڈااو ایس BADA OS لانچ کیا ۔دوسری جانب کمپنی نے اپنے اینڈرائڈ کے اعلی معیار فون کی تیاری میں بھی پیش قدمی بھی جاری رکھی۔ اس بیچ HTCنے بھی اب اپنی ساری توجہ اینڈرائڈ پرصرف کرنی شروع کیں ،اورگوگل کے برانڈ سے فروخت ہونے والے اسمارٹ فون Nexus One کیساتھDesire لائن کے موبائل تیار کئے۔یوں ونڈوز موبائل کو اپنے دیرینہ رفیق سے محرومی پرسخت مشکل کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا مائیکروسافٹ نے مقابلہ میں رہنے کیلئے دوبارہ نئے انداز میں اسمارٹ فون کے میدان میں اترنےکی تیاری شروع کر دی۔
مثبت مقاصد ؟
اسمارٹ فون چھڑانے کے ایپ کاحالیہ خیال یونہی نہیں آگیا ہے۔تیز نشتر شرپسند کے ہاتھ میں آفت ہی ہوتا ہے جبکہ ماہر جراح اس سے مثبت مقاصد حاصل کرتا ہے۔بدلاو ¿ کے اس کھیل میں لوگوں نے اپنے مکان اور گردے تک فروحت کردئے ہیں۔لوگ اپنوں کے بیچ میں رہتے ہوئے اپنوں سے دور ہورہے ہیں۔ ضرورت اور بلاضرورت اسمارٹ فونوں کے قہر نے انسانی زندگی پر نہ صرف ڈھوس منفی نتائج مرتب کئے ہیں بلکہ روحانی سکون کو تارتار کرکے رکھ دیاہے۔سائنسی ترقی کا لامتناہی سلسلہ تودجال پرختم ہوجائے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کتنے لوگ صراط مستقیم پر قائم رہتے ہیں!

An App To Get Rid From Smartphone Addiction
By: Sajjad Ahmed
'I'll admit it: I check my smartphone compulsively. And the more I use it, the more often the urge to look at it hits me. In the orthodontist's office. Walking my kids to school. In meetings. Even while making breakfast. Sometimes it is in my hand before I even know what I'm searching for. Sometimes I tap the screen absent mindedly -- looking at my email, a local blogger, my calendar, and Twitter. I'm not the only one struggling with this very modern compulsion. According to a 2012 survey by the Pew Research Center, 46% of all American adults now own a smartphone -- up a whopping 25% from 2011. And smartphone use can get very heavy. In a study of 1,600 managers and professionals, Leslie Perlow, PhD, the Konosuke Matsushita professor of leadership at the Harvard Business School, found that'. According to reports, November 23, 2014, three students in Singapore have been found eligible for developing an app for people which will be use to stop people calling from Smartphone Addiction. According to Singapore newspaper Straight Times website, the purpose of this app -Apple Tree- is that people go to meet their relatives and friends instead of calling all day on phone. This particular app will make silent two or more phones. The Smartphone Addiction app works such that if two or more friends keep their phones together, the phones will be still if the user is not touching his phone, an apple tree begins to grow on the screen and a digital fruit will grow up.
Channel News Asia says rewards will be obtained in exchange of these fruits. The more times you would not touch your phone, the more reward you get. To bring more and more residents of Singapore closer, this app is included in Annual Splash Awards.
How and who had the idea of this app?
Student LYBRIN LIN says that his friends were sitting together for gossips with their phones placed beside them, just there, He got the idea to make this app.
This idea was so popular that till March-2015, this App APPLE TREE has been funded US $24 Thousand. This app will be released on Singapore’s 50th birthday.
Do You Know?
Smartphone use can get very heavy. In a study of 1,600 managers and professionals, Leslie Perlow, PhD, the Konosuke Matsushita professor of leadership at the Harvard Business School, found that:
 70% said they check their smartphone within an hour of getting up.
 56% check their phone within an hour of going to sleep.
 48% check over the weekend, including on Friday and Saturday nights.
 51% check continuously during vacation.
 44% said they would experience "a great deal of anxiety" if they lost their phone and couldn't replace it for a week.
"The amount of time that people are spending with the new technology, the apparent preoccupation, raises the question 'why?'" says Peter DeLisi, academic dean of the information technology leadership program at Santa Clara University in California. "When you start seeing that people have to text when they're driving, even though they clearly know that they're endangering their lives and the lives of others, we really have to ask what is so compelling about this new medium?"

Sar Dhanp kar Namaz Padhna




Sar Dhamp Kar Namaz Parhna Sunnat Hai
Sarr Dhamp Kar Namaz Parhneka Masla…
Jaisa Ap Sab Jante Hoge Ke Ghair Muqallideen Harr Ijmai Masle Ko Lekar Iktelaf Paida Karte He Usmese Ek Masla Sarr Dhamp Kar Namaz Parhna Bhi Shamil He…
Ahle Sunnat Wal Jammat Ke Nazdeek Sarr Dhamp(Topi,Amama Ya Rumal Se) Kar Namaz Parhna Sunnat Ya Mustahab Hai Yehi Nahi Bulke Hazrat Muhammad Salalallahu Alaihi Wassalam Bhi Namazo Me Sarr Kisi Na Kisi Cheez Se Dhanka Hua Rakhte Aur Yehi Amal Ko Dekh Sahaba Raz Aur Tabain Rah Bhi Namazo Pe Topi Ya Ammama Pehne Huye Hote
Magar Ajj Kal Ghair Muqallideen Ke Chand Hazrat Jese Zakir Naik,Adv. Faiz Ahmed Wagaira Ne Fitna Nikala He Ke Topi Ke Bagair Namaaz Hojati He Aur Na Honeki Ki Koi Hadees Sanad E Sahih Se Maujood Nahi Yeh Unlogo Ka Chalenge Hota He Jinko Kitab Aur Sunnat Ki Koi Samajh Nahi..
Lehaza Kuch Dalil Mulaiza Farmaye Wakai Haqq Wale Kaun He Aur Sunnat Pe Chalne Wale Kaun Hain Dekhte He..
☀ ALLAH TA’ALA KA FARMAN☀
☀Allah Ta’ala Farmate Hain- “Ya Bani Aadama Kuzu Zeenatakum Inda Kuli Masjid”
Tarjuma- Aye! Bani Adam, Jab Tum Namaz Padhne Lago Toh Khubsurat Libas Pehan Liya Karo..
(Sura No.7 Sura A’araaf Ayat no. 31)
* Inda Kuli Massjid Se Murad Inda Kuli Salatin Hai..
ISS AYAT KA MANA BAYAN KARTE HUYE SALAF KYA FARMATE HE DEKHTE HE..
☀1) Imam Ibn Quddama Hambali Rah Farmatey He- “Agar Koi Insan Ek Kapda Pahen Ke Namaz Parta He To Uske Liye Kafi He, Agar 2 Kapde Pahenke Namaz Qayam Karta He To Uske Liye Zada Behtar He, Aur Agar Koi 4 Kapde Pehan neko Iktiyar Karleta He Toh USKI NAMAZ KAMIL AUR MUKKAMAL HOJATI HAI..
AUR VO 4 KAPDE HE- KAMEEZ, TAIBAND,PAIJAMA AUR AMAMA YA TOPI..
(Al Mugni Lil Qudama Jild 2 Safa136)
☀2) Shaikhul Islam Muhammad Bin Zaid Al Kausari Rah Farmate He “Lafaz E Zeenat Me Sarr Dhampna Shamil Hai”
(Maqalaat E Kausari Jild 1 Safa 171)
☀3) Imam Ibn Tayymiyah Rah Ne Bhi Zeenat Se Muraad Satar Ke Alawa Ke Kapdo Ko Kaha He..
(Fatawa Kubra Lil Ibn Taymiyyah)
☀4) Miya Nazeer Hussain Dehlavi Jo Ahle Hadees Ke Shaikhul Kul Fil Kul He Iss Ayat Ke Tehad Farmate He- Yeh Ayat E Mubaraka Se Yeh Sabit Hota He Ke Topi Aur Amame Se Namaz Parhna Aula (Mustahab) Hai Aur Jo Susti Aur Kotahi Ke Wajah Se Langa Sarr Namaz Parhe Usski Namaz Makrooh He..
(Fatawa Nazeeriya Jild 1 Safa- 240)
Lehaza Salaf Wa Khalaf Ke Nazdeek Bhi Masnoon Tarika Sarr Dhamp Kar Namaz Parhneka He Jo Quran E Pak Ki Ayat Se Sabit Hui..
RASOOLULLAH S.A.W KA
QAUL YA AMAL KYA THA?
☀1. Hz. Anas R.z Farmate He
Ke Nabi S.a.w Aksar Aukat
Apna Sarr Mubarak Ko
Kapde Se Dhaanp Kar
Rakhte The..
(Sha’mail Tirmizi Safa 17)
Note- Aap S.a.w Har Waqt
Sarr Dhanka Hua Rakhte
Magar Sawal Uthta He
Kaise Wo Kaunsi Cheez
He??
Iske Liye Niche Wale
Hadeese Mulaiza Ho…
☀2. Hz. Abdullah Bin Umar
R.z Farmate He Ke
Rasoolullah S.a.w Safed
Rang Ki Topi Pehna Karte
The..
(Majmua Az Zawaid Jild 5
Safa 121, Bab- Topi Ka
Pehnna,
Tabrani)
* Imam Haismi Rah Ne Hadees Ko Sahi Kaha..
* Imam Tabrani Rah Ne Hasan Kaha..
* Imam Suyuti Rah Ne Hadees Ko Ala Darjeh Ki Sahih Kaha Hai..
(Dekhiye Sirajul Muneer Lil Suyuti Jild 4 Safa 112)
☀3. Abu sheikh rah riwayat
karte he ke Abdullah Bin
Abbas R.z se Ke Nabi S.a.w
Ke Pass 3 Topi Huwa Karti
Thi
(Bazlool Majhood Jild 6
Safa 52)
☀4. Hz. Ayesha R.z Riwayat
Karti He Ke Nabi S.a.w Ek
Safed Rang Ki Topi Pehna
Karte The Jo Sapat hoti Aur
Aap s.a.w ke mubarak sarr
se chipki hui hoti thi.
(Faizul Qadeer lil ibn
Hummam Jild 5 Safa 246)
☀5. Hazrat ayesha r.z se
marvi he ke nabi s.a.w jab
safar me jate to topi vo
pehte jo unke kaan mubarak
ko dhank leti aur jab
gharme rehte to patli si topi
pehte the..
(Faizul Qadeer Jild 5 Safa
246, Imam Iraaqi Maliki Rah
Sanad Ko Sahi Kaha)
☀6. Hz. Rokana R.z Riwayat
Karte he ke Rasoolullah
s.a.w ne farmaya hamare
(musalmano) aur mushriko
ke darmiyan fark topi ke
upar immama pehnepe he..
(Sunan Abu Dawood,
hd.no-948, Sunan Tirmizi
Hd.no-3919)
☀7. Rasoolullah S.a.w Se
pucha gaya ke ehraam ke
kapdey kistarah ke hone
chaiye?
Toh aap s.a.w ne farmaya-
“tum kameez, pajama,
immama ya topi na pehnna”
(Sahih Bukhari jild 1 safa
248 hd.no 1838)
Note- Sahih Bukhari Ki
Hadis Se Pata Chalta He Ke
Aksar Sahaba R.z  Kameez,
Pajama, Imama Ya Topi
Pehnte The Lihaza Aap
S.a.w Ne Ehraam Ki Halat
Me Yeh Sab Mana
Farmaya..
☀8. Hazrat Wael Bin Hujr Razi
Allahu anhu farmate hai ke
Mai agle Saal Huzoor
sallallahu alaihi wasallam ke
paas aya (to Maine dekha ke
Namaz me) Sahaba Razi
Allahu anhum ke (Jismo par)
Chadaren thi aur (SARON par)
Lambi TOPIYAN thi.
(Muajjamul Kabeer Lit Tabarani Jild 9 Safa 157, Sunan At Tahavi)
☀9. Hazrat Anas Bin Malik razi
Allahu Anhu farmate hai ke
Maine Rasoolullah Sallallahu
Alaihi wasallam ko Wuzu karte
hue Dekha. Ap sallallahu Alaihi
wasallam ke SAR MUBARAK
par QATRI PAGDI thi,
Ap ne Pagdi ke NEECHE se
hath Daal kar Sar ke Agle
Hisse par MASAH farmaya aur
Pagdi ko khola nahi.
(Abu Dawood)
☀10. Hazrat Abdullah Bin Omer
Razi Allahu anhuma farmate
hai ke Nabi Kareem sallallahu
alaihi wasallam jab bhi
AMAMA bandhte the to Apne
AMAMA ko apne Kandho ke
Maa bain(darmyan) latkate
the.
Hazrat Nafe’ farmate hai ke
Hazrat Ibne Omer Razi Allahu
anhu bhi Yunhi karte the aur
hazrat Abdullah kehte hai
maine Hazrat Qasim Bin
Muhammad(rahmatullahi alaih)
aur Salim rahmatullahi alaih
ko bhi Yunhi karte dekha hai.
(Shamail Tirmizi)
☀11. Anas Bin Malik Raz Se Riwayat He ke Rasul Ullah S.A.W Ko Dekha Apne Sarr Mubarak Pe Tel Bohot Zada Istemal Kiya Karte The Isliye Aap S.A.W Ke Sarr Mubarak Pe Jo Kapda Hua Karta Tha Vo Kapda Tel Lagne Ke Wajah Se Aise Hojata Tha Jaise Tel Bechne Wale Ya Tel Nikalne Wale Ka Kapda Hota Hai..
(Shaamail Tirmizi Safa 4)
* Yani Rasul Ullah Saw Itne Kasrat Se Sirr Mubarak Par Kapda Dhampa Rakte Ke Kapda Tel Bechne Walo Ke Kapdo Ke Barrabar Hojata..
☀12. Hazrat Faltan Bin Aasim Raz Farmatey He Ke Meine Rasul Ullah S.A.W Ko Dekha Aur Aap S.A.W Ke Sahaba Raz Ko Bhi Dekha Ke Woh Namaz Partey Waqat Apne Sarr Ke Upar Topi Rakhte Ya Phir Amama Ya Chadar..
(Muajjamul Kabeer Lit Tabrani Jild 9 Safa 157)
☀13. Jabir Bin Abdullah Raz Riwayat Karte He Ke Jab Fatah Makkah Hui To Mein Ne Dekha Rasul Ullah S.A.W Kaala Rang Ka Amama Pehne Huye The Aur Uske 2 Sirrhe Aap S.A.W Ke Mohndo Ke Darmiyah The..
( Sahih Muslim Abu Daud Sunan Tirmizi Ibn Majah Sunan Nasai )
☀14. Hazrat Hurais Raz Riwayat Kartd He Ke Nabi S.A.W Ne Kala Rang Ka Amama Pehna Hua Tha.
(Sahih Muslim 1/439, Musanaff Ibn Abi Shaiba 8/233, Shaamail Tirmizi Safa 8, Ibn Majah Safa 256)
☀15. Rasul Ullah S.A.W Farmate He- Amama Pehna Karo Kyuki Yeh Islam Ki Pehchan Hai Aur Musalman Aur Kafiro Ke Darmiyan Fark Karne Wali Cheez Hai..
(Khasail E Nabawi Safa 6 Hd.no- 8)
☀16) Hazrat Rokana Raz Se Riwayat He Ke Rasul Ullah S.A.W Farmate Ke Ke Hamare Aur Mushrikin Ke Darmiyaan Fark Karne Wali Cheez Topi Ke Upar Amama Hai..
(Sunan Abu Dawood Hd.no-4075,
Sunan Tirmizi Hd.no-3919)
☀17. Hazrat Abdullah Ibn Abbas Raz Se Riwayat He Ke Rasul Ullah S.A.W Sahaba Raz Se Gufta Gu Karte Waqat Kala Rang Ka Amama Pehne Huye The..
(Sahih Bukhari Jild 1 Safa 536)
SAHABA RAZIALLAHU
TALLANHUMA KA QAUL YA
AMAL..
☀1. Hasan Basri Rah
Farmate He Garmi Ki Wajah
Se, Sahaba R.z Sajda, Topi
Ya Imama Sahet Karte Aur
Unke Hath Kameez Ke
Asthin Ke Andar Hote..
(Sahih Bukhari Jild 1 Safa
56 Baab – Isbareme Ke Garmi Ke Mausam Me Topi Ya Pagdiyo Pe Sajda Karna)
☀2. Anas Bin Malik R.z
Hamesha Topi Pehna Karte
The..
(Sahih Bukhari Jild 2 Safa
863)
☀3. Hz. Ali Bin Abu Talib R.z
Ko Dekha Gaya Ke Vo
Safed Misri Topi Pehne
Huye The..
(Tabaaqat Ibn Saad Jild 3
Safa 187)
☀4. Zaid Bin Jubair Rah
Farmate He Ke Unhone
Abdullah Bin Zubair R.z Ko
Topi Pehne Huye Dekha..
Dusri Hadees Me..
Hishaaq Bin Urwa Rah
Farmate He Mein Ne Abu
Musa Ashari R.z Ko Baithul
Kanna(Toilet) se nikalte
huye dekha aur unhone topi
pehni hui thi..
(Musanaff Ibn Abi Shaiba
Jild 8 Safa 212,213,242)
☀5. Hazrat Abdullah Bin Omer
Razi Allahu anhu SAR par
MASAH farmate to TOPI Sar
se hata lete aur SAR ke AGLE
HISSE par MASAH farmate.
(Dar Qutni)
☀6. Hazrat Hasan Basari
rahmatullahi alaih farmate hai
ke Huzoor sallallahu alaihi
wasallam ke SAHABA RAZI
ALLAHU ANHUM NAMAZ me
SAJDA karte is haal me ke
Unke Hath kapdo me hote the
l8r unme so har ADMI apni
PAGDI par SAJDA karta tha.
(Mussanaf Ibn Abi Shaiba)
☀7. Hazrat Ali Raz Se Marvi He Ke Jo Namaz Parh Raha Ho Vo Sajda Peshani Pe Kare Aur Amama Hata Le
(Musanaff Ibn Abi Shaiba Jild 2 Safa 500)
* Yani Pagdi Ya Amame Pe Sajda Na na Kare Bulke Peshani Pe Kare..
☀8. Hazrat Ali Bin Hussain Raz , Hazrat Abdullah Bin Zubair Raz Aur Hazrat Abu Musa Ashari Raz Se Bhi Topi Ka Pehnna Sabit He
(Musannaf Ibn Abi Shaiba Jild 8 Safa 212..)
☀9. Hilal Bin Yasaf Rah Farmate Je Ke Jab Hum Wabisah Gaye Toh Sahabi E Rasool Ko Topi Pehne Huye Paya..
(Sunan Abu Dawood Hd.no- 948)
AIMMA AUR MUHADISEEN
KE AQWAL
☀1. Imam Shafi Rah Ke Mazhab Me Amama Ke Sath Namaz Parhna Mustahab He..
(Al Misri Safar Ke Muttaliq Safa 122)
☀2. Ibn Qudama Hambali Farmate He Ke Sawb, Silwar, Izhaar Aur Amama Ke Sath Namaaz Parhna Mustahab Hai..
(Al Mughni 1/404,405)
☀3) Imam Malik Rah Farmatey He Ke Amama Pehna Islam Ke Shuruwat Se Lekar Hamare Zamane Tak Chala Aaraha He Aur Ahle Ilm Mese Yahya Bin Sa’eed Rah, Rabi’a Aur Ibn Hurmuz Ko Kasrat Ke Sath Pehna Hua Dekha Aur Yeh Hazrat Rabi’a Rah Amama Ko Sote Waqat Utarte The Aur Unke 30 Shagird Bhi Aisa Karte Jisme Me(Imam Malik) bhi Shamil Hu, allah ki Kasam Amama Ke Pehnnese Aqal Badhti He..
(Al Jami Fi Al Sunan Lil Ibn Abi Zaid Safa 228, 1982 edition)
☀4) Shaik Abdul Qadeer Jilani Rah Farmatey He Acche Logo Ki Addat Thi Ke Woh Apne Sarr Dhamp Ke Rakhte The..
(Gunyatul Taalibeen Jild 1 Safa 14)
☀5) Allama Qastallani Rah
Farmate He Beshaq Bina
Kisi Shaqq Ya Shuba Ke
Nabi Ke Sahaba R.z Topi
Pehna Karte They Jinme
Abu Bakar, Abdullah Ibn
Abbas R.z Jaise Sahaba R.z
The Unke Alawa Tabain Bhi
The Jaise Ibn Abu Laila
Wagaira
(Sharh Bukhari lil Imam
Qastallani)
☀6) Imam Iraaqi Al Maliki
Rah Farmatey He Topi Nabi
S.a.w Ki Sunnat He..
(Akhlaak-E-Nabwi)
☀7) Fuqaha Rah Farmatey He
Ke yeh Makrooh mese He ke
Susti ya kotahi ke wajah se
namaz me topi na pehna
jaye..
(Al Fiqh Al Islami, Baab Ul
Makroohat E Salaah)
☀8) Hanafi Fuqaha Rah Ka
Farman He “Susti Ke Bina
Par Topi Na Pehnna
Makrooh Hai”
(Durre Mukhtar Jild 1 Safa
474, Raddul Mukhtar Jild 1
Safa 474)
☀9) Mulla Ali Qari Hanafi Rah Farmate He Ke Islam Ke Pehchan Topi Pehne Me Hai..
(Mirqaat Al Masabih Jild 8 Safa 246)
☀10) Ibn Jauzi Rah farmate He Ke Sirr Ko Langa Rakhna Acche, Sacche Logo Ki Pehchan Nahi He..
(Fatawa Rasheediya Jild 1 Safa 308)
GHAIR_MUQALLIDEEN
KE BUZURG
RAHIMAHULLAH KE
FATWE..
☀1. Maulana Sanaullah
Amritsari Rah Farmate He
Ke.. “Masnoon Namaz Ka
Tareeka Wahi Hai Jo Aap
S.a.w Se Bildawaam Sabit
Hua Hai Yani Badan Par
Kapde AUR SARR DAKHA
HUA HO PAGDI SE YA TOPI
SE..
(Fatawa Sanaiya Jild 1
Safa 525)
☀2. Maulana Abu Saeed
Sharfuddin Rahima Hullah
Likhte Hain Nange Sar
Namaz To Hojayege Magar
Sar Dhapna Accha
(Mustahab) Hai, Aap S.a.w
Namaz Me Aksar Imama Ya
Topi Pehne Rehte The.
(Fatawa Sanaiya Jild 1
Safa 523)
☀3. Ghair Muqallid Syed Muhammad Daud Ghaznavi Rah Apne Walid Imam Abdul Jabbar Ghazvi Ghair Muqallid Rah Ka Qaul Naqal Karte He Ke-” Agar Nange Sarr Namaz
Fashion Ki Wajah Se Padhi
Ho Toh Namaz Makrooh He,
Agar Khushi Ke Liye Hai
Toh Tashbi Nasara(Eshaiyo
Ke Jaisa Amal) Islaam Me
Siwaye Ihraam Ke Nange
Sar Rehna Khushu Ke Liye
Nahi, Agar Susti Ki Wajah
Se He Toh Munafiqeen Ke
Addat He Ghary Harr
Lihaaz Se Napasandida(Mak
rooh) Hai”..
(Fatawa Ulama-E-Ahle
Hadees Jild 4 Safa 291)
☀4. Sindh Ke Bade Mautabar Ahle Hadees Alim Syed Mohib Ullah Shah Rashidi Maujooda Haal Bayan Karte Huye Likhte He Ke” Aksar Aur Bestar Aukat Nabi E Kareem Salalallahu Alaihi Wassalam Aur Sahaba Razj Aahu Talla Ajmain Sarr Par Amama Ya Topiya Hoti Thi, Siwaye Hajj Aur Umrah Ke Maukepe Koi Aisi Sahi Hadees Nahi Milti Ke Jisme Yeh Maujood Ho Ke Nabi E Kareem S.A.W Nange Sarr Ghumtey Firte The Ya Kabhi Sarr Mubarak Par Amama Wagaira Tha Lekin Massjid Me Aakar Amama Wagaira Rakh Diya Aur Lange Sarr Namaz Parhna Shuru Kardi!! Mere Samne Istarah Ki Koi Riwayat Nahi Aayi..
(Al Iteesam Jild 45 Shumara No. 27, 22 December 1989)
☀5. Ghair Muqallid Ubaid Ullah Khan Aqeebi Rah Farmate He “Namaz Parte Waqt Topi Ya Pagdi Rakhni Chaiye, Insan Ko Lange Sirr Parhna Theek Nahi(Makrooh Hai)
(Fatawa Muhammadia Jild 1 Safa369- Tarteeb Dene Wale Mufti Mubbasir Rabbani Ghair Muqallid)
SHAIKH NASEERUDDIN ALBANI RAHIMAHULLAH KA WAZE QAUL AUR LALKAR
☀1) Ek jagah Shaikhul Albani Farmate He Ke- “LANGE SARR NAMAAZ PARNA MAKROOH HAI”
Nez Farmate he Jo Log Nange Sarr Namaaz Parte He Unke Pas Jo Dalil He Ke Hzrat Ibn Abbas Raz Ne Farmaya Ke Rasul Ullah S.A.W Baaz Aukat Apni Topi Nikal Kar Apne Samne Sutra Ke Liye Rakhte Yeh Hadees Zaef He..
(Al Qawl Al Mubeen Fi Akhta Al Musallin Safa 58, 2nd Edition Min Mashhur Hussain)
☀2) Aur Ek Jagah Albani Rah Farmatey He Ke- ” Sivaye Hajj Ke Kabhi Bhi Lange Sarr Namaz Parhna Sabit Nahi..
(Tamaam Ul Minnah Fi Ta’leeq Alaa Fiqh Us Sunnah Lil Allama Naseeruddin Albani Rah)
☀3) Aur Ek Jagah Chalenge Karte Huye Shaikhul Albani Rah Farmate He..
“SALAF KA MAMOOL THA KE VO LANGGE SARR NAMAZ NAHI PARTEY THE NA HE MASJID AUR RAASTE PAR LANGE SARR FIRTEY THE BULKEY YEH (LANGE SARR FIRNA) TO KAFIRO WALA HE, AUR RASUL ULLAH S.A.W SIRF HAJJ ME LANGE SARR NAMAZ PARTE AUR ISKE ALAWA HUME AJJ TAK SAHIH HADEES NAHI MILI LANGE SARR NAMAAZ PARHNEPE JISKO MIL JAYE HUMME BHI DIKHAYE AKHIR SACCH SACCH HOTA HE”
(AL Din Al Khalis 3/214,
Al Ajwiba Al Nafi’a An Masa’il al Waqi’a Safa 110)
HASIL
In Sab Dalail Wa Behas Ke
Baad Pata Yeh Chalta He
Ke Sarr Dhamp Kar Namaz Parhna Sunnat E Rasool Wa
Sahaba Hai Aur Namaz Me
Bila Kisi Ujar Ke Tark
Karna Napasndida Hai Yani
Makrooh Hai..

Visitors

Flag Counter